جنت نظیر وادی کشمیر میں کرفیو کا 23 واں روز ، لاکھوں کشمیری گھروں میں محصور


۲۷ اگست, ۲۰۱۹ ۱۲:۲۳ شام

 سرینگر (92 نیوز) جنت نظیر وادی کشمیر میں کرفیو کا 23 واں روز ہے۔ لاکھوں کشمیری گھروں میں محصور اور فاقوں پر مجبور ہیں۔

بھارت کشمیریوں کا جذبہ آزادی کم کرنے میں مسلسل ناکام ہے۔ میڈیا کا بلیک آؤٹ بھی مظلوم کشمیریوں کی داستان باہر آنے سے نہ روک سکا۔

بھارتی مظالم کے خلاف ڈاکٹر بھی چپ نہ رہ سکے۔ سری نگر کے ڈاکٹر عمر نے احتجاجی دھرنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کرفیو اور بلیک آؤٹ سے سیکڑوں مریض متاثر ہو رہے ہیں جو بروقت علاج نہ ملنے پر مر جائیں گے۔

ڈاکٹر عمر کا دھرنا بھارتی فورسز کو ایک آنکھ نہ بھایا۔ سسکتے مریضوں کیلئے دہائی دینے پر مسیحا کو ہی قید کر ڈالا۔

ادھر آرٹیکل تین سو ستر کو ختم کرنے کا اقدام ایک بار پھر بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔ کشمیری سماجی رہنماؤں شاہ فیصل اور شہلا رشید کی درخواست پر سماعت کل ہو گی۔

امریکی رکن کانگریس الہان عمر بھی کشمیری مظالم پر خاموش نہ رہ سکیں۔ ٹویٹ کیا کہ ہمیں کشمیر میں رابطوں کے ذرائع بحال کرانا ہوں گے۔ بھارت کو کشمیر میں انسانی حقوق، جمہوری روایات اور مذہبی آزادی کا احترام کرنا چاہئے۔

تازہ ترین ویڈیوز