جسٹس (ر)جاوید اقبال نے چیئرمین نیب کی زمہ داریاں سنبھال لیں

۱۱ اکتوبر, ۲۰۱۷ ۱:۵۳ شام

اسلام آباد ( 92 نیوز ) جسٹس ریٹائرڈ جوید اقبال نے نیب ہیڈکوارٹر پہنچ کر اپنے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھال لیں ۔
جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کہ کرپشن کیسز کا بھی جائزہ لیا جائے گا ۔ سب کچھ قانون کے مطابق چلے گا۔۔ لاپتہ افراد کا معاملہ بھی باریک بینی سے دیکھا ہے جبکہ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ جمع کرادی ہے۔

اس سے قبل چیئرمین نیب سے پراسکیوٹر جنرلز سمیت نیب کے اعلیٰ حکام نے بھی ملاقات کی جس میں انہیں نیب امور سے متعلق بریفنگ دی گئی ۔چیئرمین نیب نے کہا کہ تمام جماعتوں نے ان کے تقرر کو قبول کیا ہے اس لئے وہ پیشہ وارانہ امور پر قانون کی پاسداری کو مقدم رکھیں گے ۔ محنت سے مقام حاصل کیا خدمت کا سلسلہ جاری رہے گا۔

علاوہ ازیں سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں جسٹس ر جاوید اقبال نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کے کل چار ہزار تین سو انتیس واقعات سامنے آئے۔دو ہزار آٹھ سو ننانوے کیسز نمٹا دیئے گئے۔ گزشتہ دو سال کے دوران گمشدگی کے ساٹھ واقعات سامنے آئے۔ بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ بند ہو چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اپنی سفارشات پر عملدرآمد نہ کرسکنے پر وہ خود کوبے بس محسوس کرتے ہیں ۔ کون سا ادارہ ہے، جو پارلیمنٹ کو انکار کر دے۔ جسٹس کمال منصور کی رپورٹ پر عمل درآمد ہو جائے تو لاپتہ افراد کا 80 فیصد مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ جسٹس ر جاوید اقبال نے مزید بتایا کہ انھوں نے واضح طور پر کہہ دیا تھا، کہ آئندہ کوئی لاش ملی تو 302 کا پرچہ درج کرائینگے۔

چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال نے قائمہ کمیٹی برائےا نسانی حقوق کے رو برو کہا کہ مشرف نے دہشتگردی کے الزام میں چار ہزار افراد کو غیر ملکیوں کے حوالے کیا۔ انھیں کس قانون کے حوالے کیا جاتا رہا۔کیا پارلیمنٹ یا کسی اور نے پرویز مشرف سے آج تک اس بارے میں پوچھا۔
ایبٹ آباد کمیشن کے حوالے سے جسٹس ر جاوید اقبال نے کہا کہ ملکی تاریخ میں کسی بھی کمیشن کی رپورٹ کو دن کی روشنی نصیب نہیں ہوئی۔ ان کو الماریوں کی زینت بنایا گیا ۔ کمیشن کی رپورٹ کو پارلیمنٹ ہی منظر عام پر لاسکتی ہے۔

تازہ ترین ویڈیوز