جج ویڈیو اسکینڈل ، میاں طارق 14روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیاگیا


جج ویڈیو اسکینڈل ‏ میاں طارق ‏ ‏14روزہ جوڈیشل ریمانڈ ‏ جیل بھیج دیاگیا اسلام آباد ‏ ‏92 نیو
22 جولائی, 2019 3:35 شام

اسلام آباد ( 92 نیو) جج ارشد ملک ویڈیو سکینڈل کے مرکزی ملزم میاں طارق کے 5 پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عدالت نے  ملزم کو 14روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا، سول جج نے ملزم کو جیل میں میڈیکل کی سہولت دینے کی بھی ہدایت کردی۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک ویڈیو سکینڈل کے مرکزی ملزم  میاں طارق محمود کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ  میں پیش کیا گیا۔ایف آئی اے نے ملزم  کے مزید پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جسے مسترد کرکے ملزم کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوادیا گیا۔

دوران سماعت جج شائستہ کنڈی نے ایف آئی اے کے تفتیشی سے کہا ملزم کے دو موبائل اور ایک یوایس بی ریکارڈ کے مطابق برآمد ہوئی ،  کیا میاں طارق کے دو گھروں اور دکان سے ریکوری ہوئی۔ تفتیشی آفیسر نےعدالت کو بتایا میاں طارق کے گھر سے ٹیوٹا لیند کروزر آمد ہوئی اس پر ملزم نے کہا اس گاڑی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ۔ جوڈیشل ریمانڈ پرملزم کا کہناتھا انھیں برین ٹیومر ہے،جیل جا کر مر جاوں گا اس پر جج نے  ملزم کو جیل میں میڈیکل سہولت دینے کی ہدایت کردی۔

پیشی کے بعد ملزم میاں طارق پر صحافیوں نے سوالات کی بوجھاڑ کردی ۔ ملزم کا کہنا تھا کہ ویڈیو اس نے بنائی نہ بیچی۔

ملزم میاں طارق نے عدالت کوبتایا ان کا بیٹا دس جولائی سے لاپتہ ہے۔ فیملی کا کوئی ممبر گھر پر نہیں ہم کہاں جائیں کیا کریں۔ وکیل ملزم نے کہا کہ ان کے موکل پر 2000 اور 2003 میں صرف ایک ویڈیو بنانے کاالزام ہے۔

تازہ ترین ویڈیوز