جج ارشد ملک ویڈیواسکینڈل میں سپریم کورٹ نے تمام پٹیشنز خارج کر دیں

جج ویڈیو اسکینڈل ‏ ملزموں کیخلاف مقدمہ ‏ اسلام آباد ‏ ‏92 نیوز ارشد ملک ‏ وزارت قانون ‏ گھناؤنی سازش
۲۳ اگست, ۲۰۱۹ ۱۲:۲۲ شام

 اسلام آباد (92 نیوز) جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس میں سپریم کورٹ نے تمام پٹیشنز خارج کر دیں اور کمیشن بنانے کی استدعا بھی مسترد کر دی۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ویڈیو کی تحقیقات متعلقہ ایجنسیوں کا اختیار ہے۔ حکومتی کمیشن بنتا ہے تو اُس کی فائنڈنگ محض ایک رائے ہو گی ۔ کمیشن کی رائے کا ہائیکورٹ میں زیر التوا مقدمے پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔

تحریری فیصلہ میں کہا گیا کہ جج ارشد ملک کا بیان حلفی اور پریس ریلیز خود چارج شیٹ ہے ۔ جج ارشد ملک نے تسلیم کیا کہ اُن کا ماضی مشکوک ہے،انھوں نے دھمکیوں اور پیسوں کی پیشکش کے بارے اعلیٰ عدلیہ کو رپورٹ نہیں کیا۔ ان کے کردار کی وجہ سے ملک کے ہزاروں ججز کو شرمندگی اٹھانا پڑی۔ امید ہے ارشد ملک کے خلاف لاہور ہائیکورٹ انضباتی کاروائی کرے گا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ نوازشریف کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ ہی ویڈیو کا جائزہ لے کر سزا برقرار یا ختم کر سکتی ہے۔ نوازشریف  کو ویڈیو کا فائدہ تب ہی ہو گا اگر باضابطہ طور پر عدالت میں پیش کئ گئی۔

عدالت نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کی قانونی حیثیت نہیں ہوتی۔ کوئی عدالت کمیشن کی رائے تسلیم کرنے کی پابند نہیں ہو گی۔ ویڈیو کی تصدیق فرانزک تحقیق سے ہو سکتی ہے ۔ جج ارشد ملک کے مطابق ویڈیو کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔  

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ہائیکورٹ فریقین کی درخواست پر اضافی شواہد کا جائزہ لینے کی مجاز ہے تا ہم  ہائیکورٹ کو اضافی شواہد قبول کرنے کی وجوہات بتانا ہوں گی۔ نواز شریف کی جانب سے اضافی شواہد پیش کرنے کی درخواست دی جائے تو ہائیکورٹ اُسے منظور کرنے کی وجوہات بھی دے۔

ادھر لاہور ہائیکورٹ نے جج ارشد ملک کو معطل کر دیا۔ رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کا کہنا ہے معطلی کا فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کیا گیا۔ جج کے خلاف کارروائی سے متعلق فیصلے کیلئے انتظامی کمیٹی کا اجلاس 26 اگست کو ہو گا۔

تازہ ترین ویڈیوز