ترکی نے شام میں کردوں کیخلاف آپریشن کا آغاز کر دیا

ترکی ‏ شام ‏ انقرہ ‏ ‏92 نیوز مشرق وسطی جنگ کےشعلے ‏
۱۰ اکتوبر, ۲۰۱۹ ۱۰:۳۴ دن

انقرہ ( 92 نیوز) مشرق وسطیٰ میں ایک اور جنگ کےشعلے بھڑک اٹھے ، ترکی نے شام  کے شمال مشرقی حصے میں کردوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کردیا ۔ کارروائی میں 8کرد باغیوں سمیت 15افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوگئے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے امریکا نے ترکی کو حملہ کرنے کی منظوری نہیں دی۔ عالمی برادری نے بھی آپریشن کی شدید مذمت کر دی ۔

شام کے باسیوں کے لیے امن ایک خواب بن کر رہ گیا ، خانہ جنگی سے برباد ملک میں ترکی نے کرد جنگجوؤں کے خلاف بہارِامن کے نام سے فوجی کارروائی کا آغاز کر دیا۔

ترک فورسز، کرد جنگجوؤں کے زیر قبضہ سرحدی قصبوں،تل ابیاد اور راس العین میں داخل ہوگئی ہیں جبکہ ترک فضائیہ کی جانب سے بمباری کا سلسلہ بھی جاری ہے ، کرد جنگجوؤں کے گروپ سیرئن ڈیموکریٹک فورسز نے تل ابیاد میں ترک فوج کا حملہ پسپا کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی وزیرِ خارجہ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکی فوجی نکالنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے اور کہا کہ ترکی کے سکیورٹی خدشات جائز ہیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ترکی کو عسکری کارروائی شروع کرنے کی اجازت نہیں دی۔

امریکی سینیٹر اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی لنزے گراہم اور سینیٹر کرس وین ہولن نے  ترکی پر سخت پابندیوں کا مطالبہ کردیا ، دونوں سینیٹرز کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ بل میں کہا گیا کہ  اگر ترکی شام سے نہیں نکلتا تو صدر طیب اردوان پر سفری پابندیاں اور ترکی کیساتھ  فوجی سازوسامان کی خرید و فرخت پر پابندیاں عائد کی جائیں ۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئترس نے بھی فوجی آپریشن پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ، سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر اور برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب نے بھی فوجی آپریشن کی شدید مذمت کی ہے ۔

تازہ ترین ویڈیوز