تحریک انصاف نے نئی تھیوری نکالی کہ غریب کومہنگائی سے فرق نہیں پڑتا، مفتاح اسماعیل

miftah ismaeel
۱۳ جنوری, ۲۰۱۹ ۷:۳۴ شام

کراچی ( 92 نیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے نئی تھیوری نکالی ہے کہ غریب کو مہنگائی سے فرق نہیں پڑتا۔

میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ  پی ٹی آئی کو علم نہیں کہ وہ ملک کو کس ڈگر پر لے کر چل رہی ہے ، نا اہل حکومت ملک کے ساتھ بہت زیادتی کر رہی ہے ، الزام لگانے والے یہ بھی بتا دیں کہ این آر او کس نے مانگا۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ حکومت نے ابتدائی مہینوں میں ہی  اسٹیٹ بینک سے 14 سو ارب روپے لئے ، ہم نے  گزشتہ برس کے ابتدائی چھ ماہ میں 288 بلین روپے لئے تھے اسی سے حساب لگا لیں ، یہ اسی رفتار سے چلتے رہے تو  حکومت پانچ سال میں اتنا ڈیڈ کرے گی جتنا 71سال میں نہیں ہوا۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک سے قرض لینے ، روپیہ چھاپنے سے مہنگائی بڑھے گی ، معاشی بد حالی پھیلے گی جس کا انہیں علم نہیں ، ہم نے بڑی مشکل سے  پیپلزپارٹی کے  چھوڑے مسائل کو حل کیا تھا ۔بجلی کا مسئلہ ٹھیک کیا تھا ، اب بجلی کا مسئلہ دوبارہ سر اٹھا رہا ہے ۔

سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ  ایل این جی امپورٹ نہیں کر رہے تھے  جس سے  پورے  پاکستان میں لوڈ شیڈنگ ہے ، خصوصاً لاہور ، فیصل آباد میں  بہت لوڈ شیڈنگ تھی ، ایل این جی کے سودے واپس کر دیے ، اب مہنگی ایل این جی لینا پڑے گی ۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکمران 4200  بجلی فرنس آئل سے بنا رہے ہیں جو کہ  ایل این جی سے 300 گنامہنگا ہوتا ہے ۔

مفتاح اسماعیل ایل این جی اسکینڈل میں نیب کے روبرو بھی پیش ہو چکے ہیں ،  گزشتہ حکومت میں قطر کے ساتھ کئے گئے ایل این جی  خریداری معاہدے کی نئی حکومت کی جانب سے چھان بین کی گئی  ، معاہدے کے مطابق حکومت پاکستان قطر کی مرضی کے بغیر ایل این جی معاہدہ ختم کر سکتی ہے نہ ہی قیمت میں کمی  لا سکتی ہے ۔

پہلا معاہدہ مارچ 2015 میں پی ایس او نے قطرگیس آپریٹنگ کمپنی لمیٹڈ جبکہ دوسرا معاہدہ فروری 2016 میں پی ایس او نے قطر لیکو فائیڈ گیس کمپنی لمیٹڈ کیساتھ کیا  تھا۔

سابق وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی کی ہدایت پر مارچ 2015 میں سابق ایم ڈی پی ایس او  شاہد اسلام  نے پیپرا رولز کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے مارچ 2015 میں پہلا معاہدہ کیا جس کے تحت خلاف قانون مہنگے دام سپاٹ ریٹ پر 10ارب روپے مالیت کے ایل این جی کے چار کارگو خریدے گئے۔

پاکستان کو آئندہ 10 سال تک قطر سے ہرسال 2 ارب ڈالر مالیت کی ایل این جی ہرصورت خریدنے کا پابند کیا گیا ہے۔ مقررہ مقدار سے کم ایل این جی خریدنے پر بھاری جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔

پاکستان 2026 تک ایل این جی کی قیمت میں کمی کا مطالبہ کرسکتا ہے اور نہ ہی معاہدہ ختم  ،جبکہ قطر 10سال بعد ایل این جی کی قیمت میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔

قطر کیساتھ معاہدہ  بین الحکومتی بنیادوں پر 15 سال کیلئے کیا گیا جو کہ 31 دسمبر 2031 تک موثر رہےگا۔

پاکستان کو معاہدہ کی شرائط خفیہ رکھنے کا پابند کیا گیا ہے ،  پاکستان کو عوامی سطح پر معاہدے کی تفصیلات سامنے لانے کیلئے قطر سے اجازت حاصل کرنا ہو گی۔

تازہ ترین ویڈیوز