بھارت میں ہونیوالے اقلیتیوں کے احتجاج میں طلبہ بھی شامل


بھارت ‏ اقلیتوں کے احتجاج نئی دہلی ‏ ‏92 نیوز متنازعہ بل ‏ مودی حکومت ‏
۱۶ دسمبر, ۲۰۱۹ ۳:۴۸ شام

نئی دہلی  ( 92 نیوز) بھارت میں شہریت کا متنازعہ بل مودی حکومت کیلئے گلے کی ہڈی بن گیا ، اقلیتوں کے احتجاج میں طلبا بھی شامل ہو گئے ۔ نئی دہلی سمیت ملک بھر میں کالج اور یونیورسٹیوں کے طلبا سڑکوں پر نکل آئے، پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد زخمی بھی ہوئے  ۔ کوریج کرنے والے صحافی بھی بھارتی پولیس گردی سے بچ نہ سکے۔

نئی دہلی میں جامعہ ملیا اسلامیہ میں طلبا نے بل کے خلاف آواز اٹھائی جسے دبانے کیلئے پولیس نے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا ۔  طلبا، طالبات حتیٰ کے صحافیوں کو بھی نہ چھوڑا جس کی وجہ سے درجنوں زخمی ہوگئے۔

جامعہ ملیا اسلامیہ میں ہونے والی پولیس گردی کے خلاف علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبا بھی سڑکوں پر نکل آئے ، حکومت کے خلاف خوب نعرے بازی کی ، یہاں بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔

پولیس تشدد کے بعد بل مخالف طلبا کا احتجاج دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں  پھیل گیا ، حیدر آباد میں مولانا آزاد یونیورسٹی کے طلبا نے دھرنا دے دیا ہے۔

لکھنؤ، چنئی سمیت دیگر شہروں میں بھی یونیورسٹیوں اور کالجز کے طلبا سڑکوں پر نکل آئے ہیں جس کے بعد حکومت نے متعدد تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کا اعلان کردیا ہے۔

اترپردیش میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ، آسام میں بھی انٹرنیٹ کی بندش میں چوبیس گھنٹوں کی توسیع کردی گئی ہے۔

تازہ ترین ویڈیوز