بھارت کی دھمکیاں ،پاکستان کا اقوام متحدہ سے مداخلت کا مطالبہ‏

پاکستان
۱۹ فروری, ۲۰۱۹ ۴:۰۰ شام

اسلام آباد ( 92 نیوز) بھارت کی دھمکیوں پر  پاکستان مئے  کشیدگی کے خاتمے کیلئے اقوام متحدہ سے مداخلت کا مطالبہ  کر دیا۔

وزیر خارجہ نے  سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کو ہنگامی اقدا مکیلئے خط لکھا جس میں کہا گیا کہ  بھارت داخلی مقاصد کیلئے پاکستان مخالف بیانات سے خطے کا ماحول کشیدہ بنا رہا ہے۔

وزیر خارجہ نے متنبہ کیا کہ بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی سنگین غلطی ہو گی ، خط میں اقوا م متحدہ کو بتایا گیا کہ بھارت نے اعتراف کیا کہ حملہ آور کشمیری تھا ، اس کے باوجود الزام پاکستان پر دھرا گیا۔

شاہ محمود قریشی نے خط میں اس بات پر زور دیا کہ کشیدگی کے خاتمے کیلئے  اقوام متحدہ کی فوری مداخلت ضروری ہے ، خط سلامتی کونسل کے ارکان کو  پہنچایا جائے ۔

دوسری جانب بھارت میں پاکستانی ہائی کمشنر سہیل محمود نے وزارت خارجہ سے ملاقات کی  جس میں پلوامہ حملے کے بعد بھارت کے پاکستان پر الزامات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں قیام امن کا خواہاں ہے ،بد امنی اور ہیجان انگیزی کسی کے مفاد میں نہیں ، تمام صورتحال کا سنجیدگی سے بغور جائزہ لے رہے ہیں ۔

وزیر خارجہ  شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی دی ،  یہ سنگین غلطی ہو گی ، بھارت کے مطابق پلوامہ حملے کا حملہ آورکشمیری تھا لیکن الزام پاکستان پر دھر دیا گیا۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کھل کر مقبوضہ کشمیر میں خون کی ہولی کھیلنے کا عندیہ دے دیا اور ساتھ ہی پاکستان کو بھی نام لئے بغیر دھمکی دی ہے ۔

پلوامہ کے حملے کے بعد گزشتہ تین دنوں میں مودی کئی بار پاکستان مخالف سخت بیانات دے چکے ہیں ، جبکہ الیکشن کے قریب ایسے واقعات کا ہونا خود بھارت میں سوالیہ نشان بن چکا ہے اور جب بھی الیکشن قریب آتے ہیں تو بھارت کی جانب سے سرحدوں پر تناؤ پیدا کیا جاتا ہے ، جس کے بعد بی جے پی الیکشن جیت جاتی ہے۔

ایک بھارتی شاعر راحت اندوری انتخابات سے قبل سرحدی تناؤ کے بارے میں کہتے ہیں

راحت اندوری

سرحدوں پر بہت تناؤ ہے کیا؟

کچھ پتا تو کرو چناؤ ہے کیا؟

پلوامہ حملے کے بعد خود بھارت سے ہی الزامات  بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پر عائد کئے گئے ۔ ایک  بھارتی پروفیسر اشوک سوین نے نریندر مودی کی سازشوں کو بے نقاب کیا۔

‏ پروفیسر اشوک سوین‏

بھارتی پروفیسر اشوک سوین کا کہنا ہے کہ  یقین ہے کہ کشمیر حملے کی آڑ میں اب مودی کنٹرول لائن پر پاکستان کے ساتھ شدید انداز میں الجھے گا،یہ کشیدگی مودی کو الیکشن میں فائدہ دے گی۔

اشوک سوین لکھتے ہیں کہ 2002 میں مودی نے گودرا ٹرین سانحے میں 59 لاشوں کو استعمال کیا اور الیکشن جیتا ، اب پلوامہ واقعے کو بھی استعمال کرتے ہوئے ماضی والا ڈارمہ دوہرا رہے ہیں۔

بھارتی پروفیسر کا کہنا ہے کہ اڑی واقعے پرمودی نے دریائے سندھ کے پانی کو روکنے کی دھمکی دی ، پلوامہ واقعے کے بعد وہ اور ان کا گینگ خاموش کیوں ہے۔

پروفیسر نے مزید کہا کہ مودی سوچ کر نہیں بولتے، دریائے سندھ کا رخ موڑنا حقیقت میں ممکن ہی نہیں ہے۔

واضح رہے پروفیسر اشوک سوین نے دسمبر  2018میں ایک ٹویٹ کیا تھا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ الیکشن سے 5ماہ قبل مودی سرکار فسادات یا بم دھماکے کراکے عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔

تازہ ترین ویڈیوز