بھارت نے کشمیریوں سے استصواب رائے کا حق چھیننے کی کوشش کی ، شاہ محمود قریشی

۰۸ اگست, ۲۰۱۹ ۸:۱۴ شام

 اسلام آباد (92 نیوز) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے  بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے کشمیریوں سے استصواب رائے کا حق چھیننے کی کوشش کی۔

وزیر خارجہ اور سیکرٹری خارجہ نے پاکستان میں تعینات سفیروں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کنٹرول لائن پر فائر بندی کی خلاف ورزیاں بڑھ گئی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں انٹر نیٹ، فون سروس  بند ہے، سیاحوں کو نکال دیا گیا ہے۔ بھارتی اقدامات کی بنا پر سفارتی  تعلقات محدود  اور دو طرفہ تجارت ختم کر رہے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا بھارت نے یکطرفہ غیر قانونی اقدام کر کے کشمیریوں  سے استصواب رائے کا حق  چھینا ہے جسے مسترد کرتے ہیں۔ اگر بھارت کشمیریوں کی بہبود کا خواہاں  ہے تو کرفیو اٹھائے اور  کشمیریوں کو اظہار رائے کی آزادی دے ۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا تشویشناک صورتحال کے پیش نظر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس  منعقد ہوا۔ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں  حکومت  اور اپوزیشن نے متفقہ قرارداد پاس کی ۔ قومی سلامتی کمیٹی  نے صورتحال  کے  پیش نظر کئی اہم فیصلے کیے۔ وزیر اعظم نے صورتحال کا قانونی ، سفارتی اور آئینی پہلووں سے جائزہ  لینے کے لیے 8 رکنی  خصوصی کمیٹی  قائم کی ۔

وزیر خارجہ بولے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود اور دو طرفہ تجارت ختم  کر رہے ہیں ۔ بھارت کے ساتھ تمام دو طرفہ  معاہدوں کا بھی از سر نو جائزہ لیں گے۔ مقبوضہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل  لیکر جائیں گے ۔ 14 اگست کو  پاکستان کے یوم آزادی  کے ساتھ یوم یکجہتی  کشمیر منایا جائے گا ۔ 15 اگست کو بھارت کے یوم آزادی کو بطور  یوم سیاہ منایا  جائے گا ۔

انہوں نے مزید کہا مقبوضہ جموں و کشمیر  کے عوام نے  بھارتی غیر قانونی اقدامات  مسترد کر دیے۔ بھارتی سپریم  کورٹ  میں  آرٹیکل 370۔ 35 اے  کا  چیلنج ہونا ثبوت ہے ۔ افغان مفاہمتی  عمل میں مخلصانہ کردار کے دوران بھارتی اقدام تشویشناک  ہے ۔ بھارت کے یکطرفہ  غیر قانونی اقدام سے امریکی نمائندہ خصوصی  زلمے خلیل زاد   کو  بھی آگاہ کیا تھا ۔

تازہ ترین ویڈیوز