بلاول بھٹو کا نام ای سی ایل سے نا نکالنے پر اپوزیشن سراپا احتجاج


ای سی ایل قومی اسمبلی بلاول بھٹو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی شیریں مزاری راجہ پرویز اشرف
۱۶ جنوری, ۲۰۱۹ ۳:۲۲ شام

 کراچی (92 نیوز) ای سی ایل کی گونج قومی اسمبلی میں پہنچ گئی۔ بلاول بھٹو کا نام ای سی ایل سے نہ نکالنے پر پی پی لیڈرز سراپا احتجاج بن گئے ۔

نوید قمر بولے حکومت ای سی ایل کو سیاسی انتقام کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ جب ای سی ایل میں نام ڈالا گیا تو سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے کا انتظار نہیں کیا گیا۔ تحریک انصاف کے بندے کا نام 24 گھنٹے میں ای سی ایل سے نکال دیا جاتا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تسلیم کیا کہ ایک سو بہتر لوگوں کے نام ای سی ایل پر عجلت میں ڈالے گئے تاہم حکومت سپریم کورٹ کے تحریری فیصلہ کا انتظار کر رہی ہے۔

شاہ محمود قریشی کے جواب پر لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی بولے بتائیں یہ کیا کہنا چاہتے ہیں ۔ کون سی قیامت آجاتی اگر بلاول کا نام ای سی ایل سے نکال دیتے۔

شیریں مزاری نے اسمبلی اجلاس میں کہا بلاول کا نام ای سی ایل سے ہٹانے کیلئے چیف جسٹس نے تجویز کیا تھا حکم نہیں دیا تھا۔

پی پی رہنما راجہ پرویز اشرف نے حکومت پر طنز کیا کہ ہمارے نام ای سی ایل میں رکھنے پر حکومت کو خوشی ملتی ہے تو خوش ہو لینے دیں ان کو۔

قومی اسمبلی میں ای سی ایل کے حوالے سے سوال و جوابات کا طویل سلسلہ چلتا رہا۔ وزیراعظم نے کابینہ اجلاس کل طلب کر رکھا ہے جس میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ ای سی ایل سے نام نکالنے کے معاملے پر بھی غور ہو گا۔

تازہ ترین ویڈیوز