برطانوی وزیراعظم کو بڑا دھچکا، ضروری قانون سازی تک بریگزٹ ڈیل مؤخر کرنے کی قرارداد منظور

۲۰ اکتوبر, ۲۰۱۹ ۹:۴۷ دن

 لندن (92 نیوز) برطانوی وزیراعظم کو بڑا دھچکا لگ گیا۔ پارلیمان نے ضروری قانون سازی تک بریگزٹ ڈیل مؤخر کرنے کی قرارداد منظور کر لی۔

بریگزٹ معاملے پر برطانوی حکومت کو ایوان میں ایک بار پھر شکست کا سامنا کرنا پڑ گیا۔

برطانوی پارلیمنٹ میں بریگزٹ کے معاملے پر ووٹنگ ہوئی جسے ایوان نے مسترد کر دیا۔ بریگزٹ کے حق میں 332 اور مخالفت میں 306 ووٹ پڑے۔

پارلیمنٹ میں اگر ترمیم منظور کر لی جاتی تو نئی ڈیل کی منظوری قانون سازی کے ذریعے کی جاتی لیکن بریگزٹ ڈیل اب مزید تاخیر کا شکار ہو گئی ہے۔

اس شکست کے بعد وزیر اعظم بورس جانسن نے صدر یورپی کونسل ڈونلڈ ٹسک کے نام غیر دستخط شدہ خط لکھا جس میں بریگزٹ آئندہ سال 31 جنوری تک ملتوی کرنے کی درخواست کی گئی ۔

رپورٹس کے مطابق بورس جانسن نے ایک اور خط بھی لکھا جس میں انہوں نے  کہا کہ بریگزٹ تاریخ میں توسیع بڑی غلطی ہو گی۔ ڈونلڈ ٹسک کا کہنا تھا کہ  انہیں خط موصول ہوچکا ہے اور یورپی لیڈران سے مشاورت کے بعد  ردعمل دیں گے۔

دوسری جانب لندن میں بریگزٹ کیخلاف احتجاجی مارچ کیا گیا۔ مارچ کا آغاز ہائیڈ پارک سے ہوا جو مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے پارلیمنٹ  کے باہر پہنچا۔ اس موقع  پر بریگزٹ کیخلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔

مارچ میں ایک بہت بڑا بینر لہرایا گیا جس پر  عوامی ووٹ کیلئے تیار ہوجاؤ لکھا ہوا تھا۔ وزیر اعظم بورس جانسن کا مجسمہ بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ منتظمین کے مطابق مارچ میں دس لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے۔

تازہ ترین ویڈیوز