بجٹ کا مجموعی حجم 7 ہزار 22 ارب روپے ہے ، حماد اظہر

۱۱ جون, ۲۰۱۹ ۸:۴۴ شام

 اسلام آباد (92 نیوز) وزیرمملکت حماد اظہر نے 3560 ارب روپے خسارے کا وفاقی بجٹ پیش کردیا۔ بجٹ کا مجموعی حجم 7 ہزار 22 ارب روپے ہے۔

بجٹ آیا، مہنگائی کا نیا طوفان لایا۔ حکمرانوں نے عوام کو نئی طرف سے گھیر لیا۔ چینی، گھی، گاڑیاں، دودھ، سگریٹ سمیت ہر چیز پر ٹیکس بڑھا دیا گیا۔ وفاقی حکومت نے چینی پر سیلز ٹیکس چھ اعشاریہ 60 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کر دیا۔ اس سے چینی کی قیمت 3 روپے 60 پیسے کلو بڑھے گی۔

بجٹ میں خوردنی تیل پر بھی 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی۔ خشک دودھ، فلیورڈ دودھ اور آئس کریم پر 10 فیصد ٹیکس بڑھا دیا گیا۔ لگژری آئٹمز پر ڈیوٹی میں اضافے کی تجویز دی گئی۔ سونا، چاندی، ہیرے اور جواہرات پر ٹیکس لگے گا۔ سونے کےزیورات بنوانے پر بھی ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی۔ میک اپ سمیت تمام آرائشی اشیا بھی مہنگی ہو گئیں۔

سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھا دی گئی۔ فی ڈبی 10 سے 14 روپے مہنگی ہو جائے گی۔ سگریٹ پینے والوں سے 147 ارب روپے اضافی وصولی کی جائے گی۔ ایک ہزار سگریٹ پر پہلے ٹیکس 4 ہزار 500 روپے تھا جو اب 5 ہزار 200 روپے کر دیا گیا ہے۔

گوشت اور اس سے بنی اشیا پر 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کردیا گیا جبکہ پنیر بھی مہنگا ہو گیا۔ بیجوں پر ٹیکس چھوٹ بھی ختم کردی گئی۔ کولڈ ڈرنکس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ساڑھے گیارہ فیصد سے بڑھا کر 13 فیصد کر دی گئی۔ وزیرمملکت حماد اظہر نے کہا امپورٹڈ اشیا پر کم سے کم ٹیکس لگایا جارہا ہے، موبائل فون پر ٹیکس میں تین فیصد کمی کی جارہی ہے۔

تازہ ترین ویڈیوز