ایک اور بھارتی صحافی نے مقبوضہ وادی کے حالات بے نقاب کر دیے

بھارتی صحافی ‏ ایک اور ‏ مقبوضہ وادی ‏ سرینگر ‏ ‏92 نیوز مظلوم کشمیری ‏ دی ہندو ‏ ورگھیس جارج
۱۴ ستمبر, ۲۰۱۹ ۹:۲۱ شام

سرینگر ( 92 نیوز)مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے انسانیت بھی شرمسار  ہو گئی ،  لاکھوں مظلوم کشمیری کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور  ہیں  ،جنت نظیر وادی  میں بھارتی کرفیو کو 41روز ہوگئے۔صورتحال پر ایک اور  بھارتی صحافی حقائق سامنے لے آیا۔

بھارتی اخبار دی ہندو کے صحافی نے مقبوضہ وادی کے دورے کے بعد وہاں کی صورتحال پر آٹیکل لکھ دیا جس میں تحریر کیا کہ  آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیری عوام کا سیاستدانوں اور میڈیا سے اعتبار اٹھ گیا ، تمام دکانیں بند اور سڑکوں پر بھارتی فوجی گشت کر رہے ہیں ۔

ورگھیس جارج نے مختلف کشمیریوں کے تاثرات جاننے کی کوشش کی ، پامپور کے رہائشی 38 سالہ مسعود احمد نے الٹا ان پر سوالات کی بوچھاڑ کردی ، جس نے پوچھا کیا آپ ہمیں نوکریاں دو گے، یہاں تو پلانٹس بند ہورہے ہیں اور  لوگوں پر فائرنگ کی جارہی ہے۔

مسعود احمد کا کہنا تھا کہ بھارت اس حد تک گرچکا ہے کہ وہ ریزرو بنک پر ڈاکا مار رہا ہے ، بھارت کہتا وہ کشمیر میں سے کرپشن کا خاتمہ کرے گا، بی جے پی بتائے اس نے بھارت میں کس جگہ پر کرپشن کا خاتمہ کیا، مدھیہ پردیش یا کرناٹکا۔

پام پورہ میں زعفران کے تاجر فیروز احمد کہتے ہیں یہ معاملہ اتنی جلد ختم نہیں ہوگا ، چنگھاڑی بھڑک اُٹھی ہے جو آگ بنے گی ، یہاں ایسے لوگ ہیں جو آگ پر تیل چھڑکنے کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔

پلوامہ کے رہائشی 70 سالہ محمد اقبال کہتے ہیں ہڑتال ہماری مزاحمت ہے ، یہ ہمارا واحد ہتھیار ہے ، ہم ایک دوسرے کا ساتھ دینا جاری رکھیں گے۔

تازہ ترین ویڈیوز