ایل این جی کیس ، شاہدخاقان عباسی، مفتاح اسماعیل کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا مسترد


ایل این جی ، کیس ، شاہدخاقان عباسی، مفتاح اسماعیل ، جسمانی ریمانڈ ، توسیع ، استدعا ، مسترد
۲۶ ستمبر, ۲۰۱۹ ۵:۱۳ شام

 اسلام آباد (92 نیوز) ایل این جی کیس میں شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل اور شیخ عمران الحق کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا مسترد کر دی گئی۔ احتساب عدالت نے تینوں ملزموں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

نیب ٹیم نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور سابق ایم ڈی پی ایس او شیخ عمران الحق کواحتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے روبرو پیش کیا۔

دوران سماعت شاہد خاقان عباسی نے 9 صفحات پر مشتمل تحریری بیان جمع  کرایا۔ نیب پراسیکیوٹرنے ایک بار پھر تینوں ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

شاہد خاقان عباسی نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ریمانڈ جتنا مرضی لے لیں۔ بنانا ری پبلک بنائی ہوئی ہے۔ ملزم کو گرفتار پہلے کیا جاتا ہے۔ کیس بعد میں بناتے ہیں۔ یہ پولیٹیکل انجینئرنگ ہے۔

جج محمد بشیر نے ریمارکس دئیے کہ وہ اس بار جسمانی ریمانڈ نہیں دیں گے۔۔ عدالت نے تینوں ملزمان کو ریمانڈ ریمانڈ پر جیل بھیجتے ہوئے 11 اکتوبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

میڈیا سے گفتگو میں شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نیب لوگوں کی تذلیل کرتا ہے۔ اوپن ٹرائل ہونا چاہیے تاکہ سب کو پتہ چلے۔ لوگوں کو اکسایا جارہا ہے کہ آپ وعدہ معاف گواہ بن جائیں۔

سابق وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ان کے ساتھ مس ہینڈلنگ نہیں ہوئی۔ کوشش کی گئی تھی لیکن انہوں نے مس ہینڈل کرنے والے کوہینڈل کر لیا۔ انہیں جو گلاس مارے گا وہ بھی اسے ماریں گے۔

تازہ ترین ویڈیوز