ایران پر امریکی پابندیوں کے دوسرے مرحلے پر اطلاق شروع ہو گیا

۰۶ نومبر, ۲۰۱۸ ۹:۵۷ دن

واشنگٹن (92 نیوز) امریکا کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں کے دوسرے مرحلہ کا اطلاق ہو گیا۔ یہ پابندیاں تیل ،شپنگ اور مالیاتی شعبے پر لگائی گئی ہیں۔

ایرانی معیشیت کا گلہ گھونٹنے کیلئے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد پابندیوں کا نفاذ ہو گیا۔ دوسرے مرحلے کی ان تعزیرات میں ایران کی سات سو سے زائد شخصیات ،کمپنیوں اور جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

عارضی طور پر صرف آٹھ ممالک کو ایران  سے تیل خریدنے کی اجازت دی گئی ہے جن میں بھارت ،چین ،جنوبی کوریا ،جاپان ،اٹلی ،یونان ،تائیوان اور ترکی شامل ہیں۔

تیل کی برآمدات اور مالیاتی شعبے پر پابندیوں کا مقصد تہران پر اس کے جوہری اور میزائل پروگرام کو محدود کرنے اور مشرق وسطیٰ میں  اس کے بڑھتے اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران اپنا رویہ تبدیل کرے یا پھر معیشیت کی تباہی کیلئے تیار ہو جائے۔

اس سے قبل ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے معاشی جنگ قرار دیا۔ انہوں نے کہا  ایران  پابندیوں کا فخر سے مقابلہ کرتے ہوئے تیل کی فروخت جاری رکھے گا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر غلام علی خسرو نے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوئٹریز کے نام خط لکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر امریکی پابندیاں سلامتی کونسل کی قرار داد کی خلاف ورزی ہے۔ لہذا امریکا کے اقدام پر اُس سے جواب طلب کیا جائے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے  رواں سال مئی میں بین الاقوامی ایرانی جوہری معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔

تازہ ترین ویڈیوز