ایران میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف مظاہرے ‏

۱۸ نومبر, ۲۰۱۹ ۸:۴۵ دن

تہران ( 92 نیوز) ایران میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کیخلاف پُرتشدد مظاہرے جاری ہیں  جس میں 12 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ متعدد زخمی ہوچکے ہیں۔ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے حکومتی فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے ایران دشمن قوتوں کو پُر تشدد واقعات کا ذمہ دارقرار دے دیا۔

ایران میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کیخلاف  ملک گیر احتجاجی مظاہرے تیسرے روز بھی جاری رہے ، مشتعل مظاہرین نے دارالحکومت  تہران سمیت مختلف شہروں میں اہم شاہراؤں کو رکاوٹیں کھڑی کر کے بلاک کردیا جبکہ مرکزی بینک سمیت متعدد سرکاری عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا ۔

پولیس احتجاج روکنے کیلئے واٹرکینن اور آنسوگیس کا استعمال کررہی ہے جبکہ کئی مقامات پر فورسز کی جانب سے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی اطلاعات بھی ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے حکومتی فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے، ملک دشمن قوتوں کو پُرتشدد واقعات کا ذمہ دار قرار دیا ، اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ سے گریز کرے۔

صدر حسن روحانی کا کہنا  تھا کہ پُر امن احتجاج عوام کا حق ہے، لیکن فسادات کے ذریعے سیکورٹی صورتحال کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

تازہ ترین ویڈیوز