آصف زرداری اور فریال تالپور کے جوڈیشل ریمانڈ میں 26 نومبر تک توسیع

۱۲ نومبر, ۲۰۱۹ ۱۱:۱۳ دن

اسلام آباد ( 92 نیوز) شاہد خاقان عباسی  کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے  بھی  احتساب عدالت میں ذاتی خرچ پر مرضی کے علاج کے لئے درخواست دے دی ۔

احتساب عدالت اسلام آباد میں میگا منی لانڈرنگ اور پارک لین ریفرنسز کی سماعت ، پمز میں زیرعلاج آصف علی زرداری کوپیش نہ کیا جاسکا ، فریال تالپور کو اڈیالہ جیل سے جج اعظم خان کے روبرپیش کیا گیا۔

سابق صدر کی جانب سے عدالت میں درخواست  دی گئی  جس میں  علاج کیلئے کراچی منتقل کرنے کی استدعا کی گئی ۔ دوران سماعت وکیل لطیف کھوسہ نے مؤقف اپنايا کہ آصف زرداری کی صحت تشویشناک ہے ، اُن کی پوری میڈیکل ہسٹری کراچی میں ہے، اس لئے بہتر علاج وہیں ممکن ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے آصف زرداری کی کراچی منتقلی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری کو مکمل علاج مل رہا ہے ،یہ کہتے ہیں اُن کو بیڈ بھی یہ عدالت لگا کر دے تو پھر ایسی درخواست حکومت کو دیں۔

پراسیکیوٹر نیب کے ریمارکس پر لطیف کھوسہ جذباتی ہوگئے ، کہا قانونی حق کيلئے درخواست دی ہے ، حکومت سے پہلے کوئی بھیک مانگی نہ اب مانگیں گے ، یہ آپ کی غلط فہمی ہے کہ زرداری کو توڑ دیں گے، وہ بیرون ملک نہیں جائیں گے ، نواز شریف کو علاج کیلئے باہر بھیجا جا رہا ہے ، ہمیں پاکستان میں تو اپنے ڈاکٹرز سےعلاج کی اجازت دیں۔

عدالت نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا اور دونوں بہن بھائی کے جوڈيشل ريمانڈ ميں 26 نومبر تک توسيع کر دی۔عدالت نے فریال تالپور کی بھائی سے ملاقات کی درخواست بھی منظور کرلی۔

عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے فیصلہ محفوظ کیا اور بعد میں درخواست مسترد کردی  ، دونوں بہن بھائی کے جوڈيشل ريمانڈ ميں بھی 26 نومبر تک توسيع  کر دی گئی ۔

دوسری جانب نیب راولپنڈی نے جعلی بینک اکاونٹس میں ایک اور ریفرنس دائر کردیا ، ریفرنس میں اومنی گروپ کے انور مجید اور دیگر ملزم نامزد ہیں ،جن پر کسانوں کیلئے دی گئی سرکاری سبسڈی میں 346 ارب روپے غبن کا الزام ہے۔

تازہ ترین ویڈیوز