آسٹریلوی سینیٹر کو مسلمانوں کیخلاف متنازعہ بیان مہنگا پڑ گیا


آسٹریلوی سینیٹر
۱۶ مارچ, ۲۰۱۹ ۷:۲۹ شام

سڈنی ( 92 نیوز ) نیوزی لینڈ میں دہشت گردی سے متعلق آسٹریلوی سینیٹر  کو متنازعہ بیان مہنگا پڑ گیا، فریسر ایننگ کے سر پر ایک شہری نے انڈا دے مارا جبکہ سوشل  میڈیا پر انہیں عہدے سے ہٹانے کی مہم زور پکڑ گئی ۔

آسٹریلوی سینیٹر فریسر ایننگ کو مسلمانوں کی مخالفت مہنگی پڑ گئی، متنازعہ بیان پر شہری نے فریسر کے سر پر انڈہ  مار دیا ۔ شہری نے تو غصہ نکال لیا لیکن آسٹریلوی سینیٹر نے نوجوان پر تھپڑوں کی بارش کردی۔

پولیس موقع پرپہنچی اورنوجوان کوگرفتاری کےکچھ دیربعدہی چھوڑدیاگیا۔

دوسری جانب آسٹریلوی وزیراعظم اسکاٹ موریسن سمیت متعدد سینئررہنماؤں نے فریسزایننگ کےبیان کو رَد کردیا ، میڈیاسےگفتگو میں آسٹریلوی وزیراعظم کاکہناتھاکہ سینیٹر  کا دیا گیابیان انتہائی بیہودہ ہے۔

ادھرآسٹریلیا کے اپوزیشن رہنما بلِ شورٹن نے مسلم کمیونٹی کے ممبران سےملاقات کی اور کہا کہ سینٹر فریسر ایننگ کےبیان کی پارلیمنٹ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

اس حوالےسےبات کرتے ہوئےآسٹریلیا کے سابق وزیراعظم جان ہاورڈ نے بھی  سینیٹر کے بیان کی مذمت کی ہے۔

گزشتہ روز سینیٹر فریسر ایننگ اپنے بیان میں  نیوزی لینڈ حملے کی وجہ حکومت کی ایمیگریشن پالیسیاں قراردی تھیں اور کہا تھا کہ نیوزی لینڈ میں مسلم آبادی کے بڑھنے سے خوف پیدا ہورہاہےاور یہ واقعہ بھی اس ہی وجہ سے ہواہے۔

ادھرسینیٹر کو عہدے سے ہٹانے کے لئے سوشل میڈیا پر مہم تیز ہوگئی ہے اب تک 2لاکھ 25ہزار افراد سینیٹر کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر دستخط کرچکے ہیں۔

تازہ ترین ویڈیوز