آئندہ بجٹ میں بجلی ، گیس پٹرولیم و دیگر محصولات کا ٹارگٹ 125 فیصد کردیاگیا


۰۹ جون, ۲۰۱۹ ۷:۴۶ شام

اسلام آباد ( 92 نیوز) آئندہ بجٹ میں ٹیکسوں کی بھرمار عوام کی منتظر ہے  ۔  بجلی، گیس ، پٹرولیم اور دیگر محصولات کا ٹارگٹ 125 فیصد کردیا گیا، انکم ٹیکس چھوٹ کی حد 12 لاکھ سے کم کرکے 8 لاکھ سالانہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ  سگریٹ اور کولڈ ڈرنکس مہنگی ہونگی۔

آئندہ بجٹ میں ٹیکسوں کا ہدف فائنل  کر لیا گیا ، وفاقی ٹیکسوں  کے ٹارگٹ میں 38 فیصد اضافہ، بھاری بھرکم تنخواہوں کے حامل ملازمین کیلئے پنشن ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔

وفاقی بجٹ میں ٹیکسوں کا ہدف 5500 ارب روپے مقرر  کیا گیا ہے ۔ بجلی، گیس ، پٹرولیم اور دیگر محصولات کا ہدف 125 فیصد کردیا گیا جوکہ 700 ارب سے بڑھ 1150 ارب روپے کردیا گیا ۔

ٹیکس ٹارگٹ کیسے پورا کیا جائیگا؟، حکومت نے حکمت عملی مرتب کرلی ۔ پانچ بڑے برآمدی سیکٹرز کی مصنوعات کا سیلز ٹیکس 9 فیصد سے 17 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

ٹیکسٹائل، چمڑے کی مصنوعات، کھیلوں کا سامان، قالین اور آلات جراحی پر ٹیکس بڑھ جائیگا۔

سرکاری ملازمین اب 1 لاکھ روپے کی بجائے 70 ہزار روپے ماہانہ پر ٹیکس دیں گے ،  ٹیکس چھوٹ کی حد 12 لاکھ روپے سالانہ سے کم کرکے 8 لاکھ سالانہ کرنے کی تجویز ہے۔

بڑی تنخواہوں کے حامل ملازمین کیلئے پنشن ختم کردی جائے گی۔  مارکیٹ کے تحت تنخواہوں کی بنیاد پر بغیر پنشن کام کرنے کی آفر کا بھی امکان ہے۔

آئندہ بجٹ میں  اخراجات پر بڑی کٹوتیاں لگانے کی بھی تجویز ہے۔ آبپاشی، نہروں کی کشادگی اور پختگی کے46ارب13کروڑ روپے کے 4 منصوبے ترقیاتی پلان سے خارج  کر دیے جائیں گے۔

سگریٹ پر ہیلتھ ٹیکس کے نفاذ کی بھی حتمی منظوری دیدی گئی ۔ وزیراعظم کے فوکل  پرسن بابر عطا  نے تصدیق  بھی کر دی گئی ہے ۔  20سگریٹ والے پیکٹ پر10 روپے ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ   ہوا ہے ۔

بابر عطا کا کہنا ہے کہ 250ملی لٹرکاربونیٹڈ ڈرنک کی بوتل پرایک روپیہ ہیلتھ ٹیکس عائد کیا جائیگا۔حاصل ہونیوالا ٹیکس صحت کارڈ کے ذریعےغریبوں پرخرچ ہو گا ۔ ٹیکس سے40 سے 50ارب روپے کے وسائل حاصل ہوں گے۔

تازہ ترین ویڈیوز