اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ، تعمیراتی کمپنیوں کو کام کرنے کیلئے ایک اور مہلت مل گئی

اورنج لائن ٹرین ، پہیہ ، عدالت عظمیٰ ، بیس مئی ، ڈیڈلائن ، پراجیکٹ ڈائریکٹر فضل حلیم ،
۱۹ اپریل, ۲۰۱۹ ۱۲:۳۷ شام

 اسلام آباد (92 نیوز) اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ میں تعمیراتی کمپنیوں کو کام کرنے کیلئے ایک اور مہلت مل گئی۔ سپریم کورٹ نے اورنج لائن ٹرین منصوبے کا تعمیراتی کام 20 مئی تک مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔

 3 تعمیراتی کمپنیوں سے ایک ایک کروڑ کی گارنٹی بھی مانگ لی۔ عدالت نے حکم دیا کہ 20 مئی تک کام مکمل نہ ہوا تو گارنٹی ضبط کر لی جائے گی۔ جسٹس ریٹائرڈ جمشید اور جسٹس عبد الستار اصغر میں سے کسی ایک کو ٹیکنیکل کمیٹی کا سربراہ بنانے کی ہدایت کر دی گئی۔

 جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ  کے دورکنی بینچ نے اورنج لائن میٹرو ٹرین پروجیکٹ کیس کی سماعت کی۔ منصوبے کی سستی روی پر جسٹس گلزار احمد نے اظہار برہمی کیا۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ کچھ کر نہیں رہے، ڈیڈ لائن پر ڈیڈ لائن مانگ رہے ہیں۔ آپ نے پہلے بھی گارنٹی دی اور بیان حلفی بھی جو پورا نہیں ہوا۔

 سپریم کورٹ نے پروجیکٹ ڈائریکٹر فضل حلیم پر اظہار برہمی کرتے ہوئے قرار دیا کہ آپ کی وجہ سے کام تاخیر کا شکار ہوا ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کنٹریکٹر کام نہیں کرتے تو انہیں اٹھا کر پھینک دیں ، جیل میں ڈال دیں ۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر تعمیراتی کمپنیوں سے بلیک میل ہورہے ہیں۔

 جسٹس اعجاز الاحسن  نے تینوں تعمیراتی کمپنیوں سے ایک ارب روپے کی گارنٹی مانگ لی۔ حکم دیاکہ مقررہ تاریخ تک کام مکمل نہ ہونے پر گارنٹی ضبط  ہو جائے گی  جس پر تعمیراتی کمپنی کے وکیل  نعیم بخاری کا کہنا تھا دو ارب کی گارنٹی پہلے دے چکے ہیں۔ مزید ایک ارب کی گارنٹی نہیں دے سکتے۔ آپ میرے مؤکل کو جیل بھیج دیں۔

 سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ میٹرو ٹرین پر خطیر رقم خرچ ہوئی ہے۔ یہ قومی مفاد کا منصوبہ ہے۔

 جسٹس گلزاراحمد نے سوال اٹھایا کیا  منصوبے پر تعمیراتی کام کی کوالٹی چیک کرنے کا کوئی میکنزم  بھی ہے یا نہیں۔ ایسا نہ ہو کہ پراجیکٹ ایک دم سے نیچے آگرے جس پر پروجیکٹ ڈائریکٹر نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ ان کے کنسلٹنٹ تعمیراتی کام کی نگرانی کررہے ہیں۔ عدالت نے سماعت دو ہفتے کیلئے ملتوی کر دی۔

تازہ ترین ویڈیوز