امریکی اخبار نے مودی کی انتہاپسندی بے نقاب کردی

بھارت
۱۴ مئی, ۲۰۱۹ ۴:۰۰ شام

واشنگٹن (92 نیوز) امریکی اخبار نے مودی کی انتہاپسندی بے نقاب کردی۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بھارتی حکمران جماعت بی جے پی میں ایک بھی رکن پارلیمنٹ مسلمان نہیں ہے، نریندر مودی کے دور میں مسلمان عدم تحفظ کا شکار ہوچکے ہیں۔

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار مودی سرکار کے بھارت کی انتہا پسندی امریکی اخبار نے بے نقاب کی ، اخبار لکھتا ہے بھارت کے مسلمان عدم تحفظ کا شکار ہوچکے ہیں، انھیں پارکوں اور کھلی جگہوں پر نماز جمعہ کی اجازت نہیں، نہ وہ گھر سے نکلتے وقت روایتی لباس پہن سکتے ہیں، بھارتی مسلمان مودی کے دوبارہ منتخب ہونے پر خوفزدہ ہیں۔

بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں نے مسلمانوں کو جینا دوبھر کر دیا

واشنگٹن پوسٹ نے مزید لکھا کہ بھارت کی آبادی کا 14 فیصد 20 کروڑ مسلمانوں پر مشتمل ہے، لیکن بی جے پی میں کوئی مسلم رکن پارلیمنٹ نہیں ۔ بی جے پی کے رہنما مسلمان دشمن سرگرمیوں اور بیانات میں بھی پیش پیش ہیں۔

انتہا پسند ہندوؤں کا مسلم خاندان پر تشدد

اخبار لکھتا ہے کہ مودی نے بھارت کو سیکولر کی بجائے ہندو ریاست میں بدل دیا ہے، گائے کے تحفظ کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام کیا جاتا ہے۔

تازہ ترین ویڈیوز