امریکا اور افغان طالبان میں مذاکرات کا پانچواں دور مکمل

امریکا اور افغان طالبان میں مذاکرات کا پانچواں دور مکمل ‏
۱۳ مارچ, ۲۰۱۹ ۹:۰۱ دن

دوحہ ( 92 نیوز ) دوحہ مذاکرات کا اہم اور طویل دور مکمل ہو گیا جس میں  امریکا افغانستان سے فوجی انخلا کی ٹائم لائن دینے جبکہ طالبان دیگر دہشتگرد گروپوں کے خلاف لڑنے پر رضامند ہو گئے ۔

امریکا اور افغان طالبان کے درمیان قطرکے دارالحکومت دوحہ میں امن مذاکرات کا   پانچواں دور اختتام پذیر ہوگیا ۔

امریکی وفد کی قیادت نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے کی  جبکہ ملا برادر  طالبان وفد کے سربراہ تھے ۔

افغان میڈیا  نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ 16 روزہ مذاکرات میں کئی نکات پرمعاہدےکی دستاویزات تیار کی گئیں جنہیں  انگریزی اور افغان زبانوں میں لکھا گیا تاہم معاہدے پر تاحال دستخط نہیں کیے گئے۔

طالبان کی دیگر دہشتگرد گروپوں کیخلاف کارروائی کی یقین دہانی

ذرائع کے مطابق  مذاکرات میں طالبان نے القاعدہ سمیت تمام دہشتگردوں سے تعلق توڑنے اور اُن کیخلاف کارروائیاں کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ مذاکرات میں  افغانستان سے  امریکی افواج کے انخلا پر بھی اتفاق رائے ہوا ہے  تاہم اس کی ٹائم  لائن کے حوالے سے تفصیلات سامنے نہیں آسکیں ۔

امریکا طالبان مذاکرات کا اگلا دور مارچ میں متوقع ہے ۔ نمائندہ خصوصی زلمےخلیل زاد رواں ہفتے  امریکا واپس جائیں گے جہاں وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر سینئر حکام  کو پیش رفت سے آگاہ کریں گے ۔

اپنی ٹویٹ میں  زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں  نشیب و فراز کے باوجود کئی چیزیں درست سمت کی جانب جارہی ہیں  ، تمام فریقین امن چاہتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ امریکی فوج کے  انخلا اور  موثر انسداد دہشتگرد کارروائیوں سے متعلق مسودے کو حتمی شکل دینے کے بعد  انٹرا افغان ڈائیلاگ اور جامع سیز فائر پر بات کی جائیگی ۔

دوسری جانب افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کہنا تھا کہ طالبان  امن مذاکرات کے ذریعے سیاسی پروپیگنڈا کررہےہیں  ۔

انہوں نے امریکا سے مطالبہ کیاہے کہ وہ جنگ ختم ہونے تک افغانستان سے اپنی فوج نہ نکالے۔

تازہ ترین ویڈیوز