اسکولز کو منافع کے کارخانے نہیں بننے دینگے ، چیف جسٹس

۱۷ اپریل, ۲۰۱۹ ۵:۳۳ شام

 اسلام آباد (92 نیوز) چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا اسکولز کو منافع کے کارخانے نہیں بننے دینگے۔

سپریم کورٹ میں نجی اسکولز فیس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا اگر مہنگائی کیوجہ سے پرائیوٹ اسکول کی فیس میں اضاٖفہ مان لیا جائے تو افراط زر سے بچوں کے والدین کی آمدن  بھی کم ہو جاتی ہے۔ جسٹس اعجاز الااحسن نے ریمارکس دیے کہ فیسوں میں من مرضی کے اضافے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

 چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے فیس میں 5 فیصد سالانہ اضافہ مناسب لگتا ہے۔ حکومت نے فیس میں سالانہ 5 فیصد اضافہ کی قانونی شق سوچ سمجھ کر رکھی ہو گی ۔ کسی کو قانون پر اعتراض ہے تو قانون سازوں سے کہہ کر ترمیم کرا لے۔ فیس میں پانچ فیصد سے زائد اضافہ لائسنس کی تجدید کے وقت  ہو سکتا ہے۔

 اعجازالاحسن نے دوران سماعت ریماررکس دیے کہ فیس سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ تضادات سے بھرا ہوا ہے۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے میں غلطیوں کی وجہ انگریزی زبان ہے۔

 وکیل نجی اسکول نے موقف اختیار کیا فیس میں پانچ فیصد سالانہ اضافہ انتہائی کم ہے۔ ملک میں مہنگائی کی شرح ہر سال 5 فیصد سے زیادہ ہوتی ہے۔ گیس کی قمیتیں 80 فیصد بڑھنے کی خبریں آ رہی ہیں۔

 جسٹس اعجاز الااحسن نے ریمارکس دیے کہ گیس کی قیمت میں اضاٖفہ سے فیس میں 80 فیصد اضافہ تو نہیں کر سکتے۔ فیس میں اضافہ کا لامحدود اختیار اسکولز کے پاس نہیں۔ پانچ فیصد سے اضافے کے لیے مجاز اتھارٹی کو جواز پیش کرنا پڑتا ہے۔

تازہ ترین ویڈیوز