کراچی میں پانی کے شدید بحران پر واٹر کمیشن کا اظہار برہمی

۱۶ اپریل, ۲۰۱۸ ۷:۱۲ شام

کراچی  ( 92 نیوز)  کراچی میں واٹرکمیشن کی کارروائی کےدوران جسٹس ریٹائرڈ امیرہانی مسلم نے پانی بحران پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں پانی نہ ملنے سے لوگ رو رہے ہیں ۔  جہاں پانی نہیں آرہا، وہاں مفت پہنچایا جائے، جاتے جاتے 100، 200 لوگوں کو فارغ کرکے جائیں گے۔

کمیشن سربراہ نے کہا پانی نہ ملنے پر لوگ رو رہے اور گالیاں دے رہے ہیں  ، بتائیں کراچی میں کیا ہورہا ہے اور کہاں گیا پانی ؟ ۔

ایم ڈی واٹر بورڈ نے کہا جنہیں پانی مل رہا ہے وہ شکر ادا کریں  ، کمیشن سربراہ بولے، کیا پانی دیکر احسان کررہے ہیں ؟ یہ عوام کا حق ہے ، اللہ تعالی کی نعمت کو آپ نے زحمت بنادیا  ہے  ، جب تک 15، 20 وال مین اندر نہیں جائیں گے معاملہ ٹھیک نہیں ہوگا ۔

جسٹس ریٹائرڈ امیرہانی مسلم نے کہا کہ پانی چوری روکیں اور وال مین کی اجارہ داری بھی ختم کریں  ، یہاں طاقتور کو پانی مل رہا ہے مگر غریبوں کو نہیں مل رہا ، آج ہی پانی کی تقسیم کا مسئلہ ٹھیک کریں ۔

جسٹس ریٹائرڈ امیرہانی مسلم نے ایم ڈی واٹر بورڈ سے کہا کہ  آج مسئلہ حل نہ ہوا تو  آدھی رات کو دورہ کروں گا  اور آپ کو بھی ساتھ لے جاؤں گا ۔ سیوریج کا پانی صاف پانی میں مل رہا ہے  ، ایم ڈی صاحب، اپنے لوگوں کو ہلائیں ۔

ایم ڈی واٹر بورڈ نے بتایا کہ روزانہ وٹس ایپ پر 500 شکایات آتی ہیں  ، لوگ مجھے آپ کے نام کی دھمکیاں دیتے ہیں ۔

کمیشن سربراہ نے کہا مجھے دھمکیاں ملتی ہیں ، لوگ کہتے ہیں کام نہ کرسکے تو اللہ کو کیا جواب دو گے ؟ ۔

کمیشن سربراہ نے میئر کراچی وسیم اختر سے کہا سالڈ ویسٹ بورڈ سے متعلق آپ کی دلچسپی نظر نہیں آرہی ۔ کمیشن کی ہدایت پر عملدرآمد نہیں ہورہا، سپریم کورٹ سے باربار حکم پر

مجھے شرمندگی ہورہی ہے ۔

میئرکراچی نے بتایا کہ  سیوریج لائنوں کا مسئلہ تھا اس لئے تاخیر ہوئی ، جسٹس ریٹائرڈ امیرہانی مسلم نےکمیشن کی کارروائی 17 اپریل تک ملتوی کردی ۔

تازہ ترین ویڈیوز