چینی برآمد کی بروقت اجازت نہ دینے پرملک کو پچپن ارب روپے کا نقصان

۱۷ مئی, ۲۰۱۷ ۴:۰۵ شام

لاہور (92 نیوز) چینی برآمد کی بروقت اجازت نہ دینے پر ملک کو پچپن ارب روپے کا نقصان۔ روزنامہ نائنٹی ٹو نیوز کا انکشاف۔ چینی کی پیداوار سات ملین ٹن، ملکی ضرورت پانچ ملین ٹن ہے، اضافی چینی کا فائدہ اٹھانے کیلئے غیر قانونی تاجر مافیا اور مڈل مین سرگرم۔ پنجاب شوگر ملز ایسوسی ایشن کا وزیراعلیٰ کو خط، غیر قانونی تجارت میں ملوث افراد کی نشاندہی۔

حکمرانوں کی کسان دشمن پالیسیوں اور بروقت چینی کی برآمد کی اجازت نہ ملنے کے باعث ملک کو زر مبادلہ کی زد میں اربوں کا نقصان ہوگیا۔ 2ملین ٹن سرپلس چینی کی موجودگی میں غیرقانونی تجارت کرنیوالےتاجر اورمڈل مین مافیا فائدہ اٹھانےکیلئے سرگرم ہوگیا۔ جس کےباعث مل مالکان  کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

ذرائع کےمطابق ملک میں 90شوگر ملز موجود ہیں جن کی ضرورت پوری کرنے کیلئے 27ہزار ایکڑ رقبے پر گنا اگایا جارہا ہے۔ ملک میں چینی کی پیداوار 7ملین ٹن جبکہ ضرورت 5 ملین ٹن ہے۔ اس طرح 2ملین ٹن چینی سرپلس ہے۔

پنجاب شوگر ملز ایسوسی ایشن نے برآمدگی بروقت اجازت نہ ملنے سےمتعلق وزیراعلی پنجاب کو بھی خط لکھا جس میں چینی کی غیر قانونی تجارت میں ملوث افراد کی نشاندہی بھی کی گئی۔ چینی کی شارٹ سیلنگ میں خواجہ عمران، اوکاڑہ کے عتیق، اسد بٹ، بابر سنٹر کے ظہیر اور گوگا، احمد بلال ،اویس سعید اورعامر شفیع کے نام شامل ہیں مگر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی شروع نہ ہوسکی

دوسری جانب پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن حکام کے مطابق ملک میں 20 لاکھ ٹن چینی سر پلس پڑی ہے۔

حکومتی عدم توجہ کے باعث زرمبادلہ کی مد میں 55 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچا، اگر حکومت نے بروقت اقدام نہ کیے تو چینی کی صنعت کو شدید خطرات لاحق ہو جائیں گے۔

تازہ ترین ویڈیوز