نوازشریف اور مریم نواز کی تقاریر نشر کرنے پر 15روز کیلئے پابندی عائد

۱۶ اپریل, ۲۰۱۸ ۲:۳۳ شام

لاہور (92 نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے نوازشریف اور مریم نواز کیخلاف توہین عدالت کیس کا فیصلہ سنا دیا ۔ عدالت نے پیمرا کو پندرہ روز میں فیصلہ کرنے کی مہلت دیتے ہوئے حکم دیا کہ پیمرا کے فیصلے تک نوازشریف اور مریم نواز کی تقاریر نشر نہ کی جائیں ۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے نواز شریف اور مریم نواز شریف سمیت دیگر افراد کے خلاف عدلیہ مخالف تقاریر کی درخواستوں پر سماعت کی  ، دوران سماعت جج صاحبان اور وکلاء کے درمیان تند وتیز اور دلچسپ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

درخواست گزاروں کے وکیل اظہر صدیق  نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 19 اے کے تحت آزادی اظہار رائے کا حق قانون اور ضابطے سے مشروط ہے۔

دوران سماعت نواز شریف کے وکیل اے کے ڈوگر نے فل بنچ کے سربراہ جسٹس مظاہر علی اکبر پر اعتراض کرتے ہوئے دوبارہ کارروائی روکنے کی استدعا کی ۔

پیمرا کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے موقف اختیار کیا کہ پیمرا کی اتھارٹی پر غیرضروری اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں،پیمرا نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے عدلیہ مخالف تقاریر کیخلاف درخواست پر فیصلہ دیا۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ پیمرا نے عدلیہ مخالف تقاریر کیخلاف درخواست تکنیکی بنیادوں پر خارج کی، کیادرخواست خارج کر کے عدلیہ مخالف تقاریر کی اجازت دی گئی؟۔

عدالت نے حکم دیا کہ پیمرا عدالت مخالف تقاریر کے معاملات پر سخت نگرانی بھی کرے ۔

لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے نوازشریف اور مریم نواز کیخلاف عدلیہ مخالف تقاریر کیس پر آج ہی فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

تازہ ترین ویڈیوز