تمباکو صنعت ہر سال 25 ارب روپے ٹیکس چوری کرنے لگی

۱۴ اپریل, ۲۰۱۸ ۱۰:۵۶ دن

اسلام آباد (92 نیوز) پاکستان میں نان ڈیوٹی پیڈ، سگل شدہ یا جعلی سگریٹ کی فروخت بڑھنے لگی ۔ حکومت کو سالانہ 25 ارب سٹکس پر ٹیکس موصول ہی نہیں ہوتا۔ سگریٹ پر ٹیکس چوری کی مد میں وفاقی حکومت کو ہر سال 25 ارب کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔

حکومت نے بڑے شہروں کو تمباکو فری بنانے’اسمگل شدہ’ جعلی اور نان ٹیکس پیڈ سگریٹس کی وبا پر قابو پانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعظم کے مشیر خصوصی برائے ریونیو ہارون اختر خان نے کہا ملک میں 27 فیصد غیر قانونی سگریٹس کی فروخت ہو رہی ہے جس کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جا رہی ہے ۔

ہارون اختر خان نے کہا کہ سگریٹ کے پیکٹ پر کم از کم ٹیکس 47.39 پیسے ہے لیکن ملک میں سگریٹ کے پیکٹس 20 سے 25 روپے میں بھی فروخت کئے جا رہے ہیں کیونکہ ان پر ٹیکس ادا نہیں کیا جاتا ۔

اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے 17 اہداف میں سے 13 کا تعلق تمباکونوشی سے ہے۔

ماہرین کیمطابق سگریٹ کے میں دھویں میں سات ہزار کیمیکل ماحولیاتی آلودگی اور 70 اقسام کے کیمیکل کینسر اور دیگر امراض کا موجب بھی بنتے ہیں۔

تازہ ترین ویڈیوز